صفحات

Saturday, 1 July 2023

بے قید زندگی پر تعزیر چاہتا ہوں

 بے قید زندگی پر تعزیر چاہتا ہوں

ہر پائے بُوالہوس میں زنجیر چاہتا ہوں

دل تیرگی کا مرکز آنکھیں ہیں شب گزیدہ

ظلمت کدوں میں جشنِ تنویر چاہتا ہوں

سب کچھ لُٹا دیا ہے جس آرزو کی خاطر

اس خواب کی میں اپنے تعبیر چاہتا ہوں

سچ بولنے کی میں نے پھر ڈال دی روایت

اب شہر شہر اس کی تشہیر چاہتا ہوں

خم جو سروں کو کر دے جو جیت لے دلوں کو

وہ تیغ چاہتا ہوں،۔ وہ تیر چاہتا ہوں

اِک چاند بن کے چمکے جو وقت کی جبیں پر

تیرہ شبی میں ایسی تحریر چاہتا ہوں

دنیا عزیز مجھ سے بس اس لیے خفا ہے

میں ربِ دو جہاں کی تکبیر چاہتا ہوں


عزیز احمد بگھروی

No comments:

Post a Comment