صفحات

Tuesday, 4 July 2023

ہم تو آسان سمجھتے تھے کہ رستہ کم تھا

 ہم تو آسان سمجھتے تھے کہ رستہ کم تھا

اس مسافت میں محبت کا علاقہ کم تھا

یوں تو دیوار کے پہلو میں کھڑے تھے ہم بھی

دھوپ ایسی تھی کہ دیوار کا سایہ کم تھا

کیسا لمحہ تھا کہ ہم ترکِ سفر کر بیٹھے

خواب کم تھے نہ تِرے غم کا اثاثہ کم تھا

قامتِ حسن میں ثانی ہی نہیں تھا اس کا

شہرِ بے فیض تِرا ذوقِ تماشا کم تھا

اک تعلق تھا جو ٹوٹا ہے کہ ہم ٹوٹے ہیں

پھر بھی لگتا ہے کہ ہم نے اسے چاہا کم تھا


خالد محمود ذکی

No comments:

Post a Comment