ہم تو آسان سمجھتے تھے کہ رستہ کم تھا
اس مسافت میں محبت کا علاقہ کم تھا
یوں تو دیوار کے پہلو میں کھڑے تھے ہم بھی
دھوپ ایسی تھی کہ دیوار کا سایہ کم تھا
کیسا لمحہ تھا کہ ہم ترکِ سفر کر بیٹھے
خواب کم تھے نہ تِرے غم کا اثاثہ کم تھا
قامتِ حسن میں ثانی ہی نہیں تھا اس کا
شہرِ بے فیض تِرا ذوقِ تماشا کم تھا
اک تعلق تھا جو ٹوٹا ہے کہ ہم ٹوٹے ہیں
پھر بھی لگتا ہے کہ ہم نے اسے چاہا کم تھا
خالد محمود ذکی
No comments:
Post a Comment