صفحات

Saturday, 7 October 2023

گلے کے سانپوں سے لڑنے والو اِن آستینوں کا کیا کرو گے

 گلے کے سانپوں سے لڑنے والو اِن آستینوں کا کیا کرو گے

جو یار سینے میں بُغض رکھتے ہوں اُن کمینوں کا کیا کرو گے

تمہاری آنکھوں کو زرد بیلوں کی آبیاری سے کیا ملے گا

نکال پھینکو حنوط لمحوں کو اِن دفینوں کا کیا کرو گے

نظر کے عدسے میں ایک مُشتِ غبار کب تک دکھائی دے گا

خلا سے خالی نگاہ لوٹی تو دور بینوں کا کیا کرو گے

ہزار ماتھوں پہ لَو بناؤ، ہزار سجدے نشان ڈالیں

جو دل کے دامن پہ داغ ٹھہرے تو اِن جبینوں کا کیا کرو گے


عاطف جاوید عاطف

No comments:

Post a Comment