ادب کے نام پہ
ادب کے نام پہ تہذیب کے لٹیروں نے
جو کارہائے نمایاں کیے کہوں کیسے
کسی نے شعر میں پھبتی کسی بہ ایں مقصد
کہا گیا کبھی عریاں نگار کو فنکار
جدیدیت کے تقاضے نبھا دئیے لیکن
قبائے شرم و حیا، تار تار کر ڈالی
مزاح کہہ کے پھلانگی گئیں حدودِ ادب
غلو کے نام پہ کچھ لوگ بے حجاب ہوئے
کسی نے جنس پہ بے باک شعر لکھ ڈالے
کسی نے وصل کے لمحات بے نقاب کیے
غزل کی آڑ میں کچھ نے نکالا دل کا غبار
تو کوئی پردۂ نثری میں کُھل کھیلا
ستم تو یہ ہے کہ عِفت کا نام لے کر ہی
اُڑائی جاتی رہیں دھجیاں شرافت کی
مزید یہ کہ یہ قزاقِ شہرِ علم و ادب
سمجھ رہے ہیں کہ ان کو ادب میں نام ملا
تزئین راز
No comments:
Post a Comment