پردہ گرتا ہے
جب تالیوں کے شور سے گونجی ہوئی فضا، ہوتی ہے بے صدا
سایا سا ایک ہال کے، سقف و در و دیوار سے
چلتا ہے اور پھیل کے کرتا ہے گُربہ پا، دل کا مِرے طواف
ہٹتا ہے ’الجلیل‘ کے چہرے سے پھر غلاف
سو اس لیے ہے پیش مِرا آخری سلام
میں خود کو دیکھتا ہوں برہنہ تمام رات
جیسے ذبیحہ خانے میں رکھا ہوا بدن
دیکھے تھے میرے باپ نے ارماں بھرے جو خواب
میرا یہ کھیل ان کی نہ تعبیر بن سکا
بخشی تھی ’الجلیل‘ کی چڑیوں نے جو نوا
میرا یہ کھیل ان کی نہ تفسیر بن سکا
ماتھا مِرا پسینے میں ڈوبا ہے اور میں
ہاتھوں سے دھو رہا ہوں ندامت کی گرد کو
سو اس لیے ہے پیش مِرا آخری سلام
کہتے تھے جو پسند ہے ہم کو وہی لکھو
جس نے رقم لگائی ہے اُس کا کہا کرو
دھن تھی سفید جھوٹ کی لیکن وہ ذی وقار
کہتے تھے اس پہ رقص کرو، گیت بھی لکھو
لیکن میں تھک گیا ہوں بہت اس کمال سے
رکھنے لگا ہوں طاق پر فرضی کہانیاں
سو اس لیے ہے پیش مِرا آخری سلام
واللہ یقین جانیے مقصد نہ تھا کوئی
لکھا تھا میں نے کھیل یہ تفریح کے لیے
تعریف اس کی ناقدوں نے اہلِ فن نے کی
لیکن مجھے لگا، اُس کی نگاہیں چیر رہی ہیں مرا وجود
ہر ایک مُو پہ نقش لکھا ’الجلیل‘ کا
سو اس لیے ہے پیش مِرا آخری سلام
اے میرے خوں، مہکتے ہوئے بے نشاں لہو
تصویر کش ہیں بُغض و عداوت کے وہ قلم
جن کے لیے سیاہی کا منبع بنا ہے تُو
یافا ہے جیسے دُھول پہ چمڑا کسا ہوا
اور اہلِ زر کے ہاتھ میں میرے یہ استخواں
چھڑیوں کی ہیں مثال
ہلتے ہیں میرے ہاتھ پہ دیتا ہے کوئی تال
ہر رات ناظرین سے کہتا ہوں جُھک کے میں
کل گر حضور آئیں تو وعدہ ہے یہ میرا’
‘کردار اپنا آج سے بہتر کروں گا میں
سو اس لیے ہے پیش مرا آخری سلام
اُونچے گھروں کے ارفع و اعلیٰ اے ناظریں
لکھا ہے میں نے بیس برس آپ کے لیے
زندہ رہا ہوں آپ کی تفریح کے لیے
لیکن یہ وقت ہے کہ کروں آخری سلام
سیلابِ رنگ و نور کی موجوں سے بھاگ کر
گاؤں میں ’الجلیل‘ کی گلیوں میں صبح و شام
گاؤں میں ’الجلیل‘ کی چڑیوں کے رُوبرو
بھرتی ہیں جو محال اُمیدوں میں رنگ و بو
رہتی ہیں اپنے خواب کی مستی میں بے مقام
سو اس لیے ہے پیش مِرا آخری سلام
مِرا آخری سلام، مِرا آخری سلام
محمود درویش
اردو ترجمہ
No comments:
Post a Comment