صفحات

Sunday, 8 October 2023

ہمیں تو آبیاری کرنی ہے پھول کی شہیدوں کی

 جلا وطنی سے خط


معدوم ہوتے ہوئے لفظوں کے درمیان سے گزرنے والو

تمہاری طرف سے تلوار، ہماری طرف سے خون

تمہاری طرف سے فولاد

ہماری طرف سے گوشت

تمہاری طرف سے ایک اور ٹینک

ہماری طرف سے پتھر

تمہاری طرف سے آنسو گیس

ہماری طرف سے آنسو اور بارش

ہم پر اور تم پر بھی آسمان

ہمارے لیے اور تمہارے لیے بھی ہوا

اس لیے لے لو ہمارے خون میں سے اپنا حصہ اور چلے جاؤ

جاؤ چلے جاؤ کسی رقص کی تقریب میں

ہمیں تو آبیاری کرنی ہے

پھول کی، شہیدوں کی

ہم تو ابھی اور زندہ رہنا ہے

جہاں تک ممکن ہو سکے


محمود درویش

اردو ترجمہ

No comments:

Post a Comment