صفحات

Sunday, 8 October 2023

تمہاری آنکھیں فلسطینی ہیں تمہارا نام فلسطینی

 ’’عاشق من الفلسطین‘‘


لوٹ آؤ

تم اب جہاں بھی ہو، جو کچھ بھی بن گئی ہو

میرے بدن اور چہرے کی گرمائی

میرے سنگیت اور رزق کا نمک

مجھے لوٹا دو

زیتون کی کوئی شاخ مجھ سے لے لو

میرے المیے کی کوئی سطر

خیال کی کوئی لڑی

بچپن کا کوئی کھلونا

مصائب کی اس چہار دیواری میں سے کوئی اینٹ

کہ ہمارے بچے، بچوں کے بچے، رستے کا سراغ رکھیں

اور لوٹ آئیں

تمہاری آنکھیں فلسطینی ہیں

تمہارا نام فلسطینی

تمہارے خواب، خیال، تمہارا بدن، تمہارے پیر

تمہاری چپ، تمہارے بول

تم حیات میں بھی فلسطینی ہو

موت میں بھی فلسطینی رہو گی


محمود درویش

اردو ترجمہ

No comments:

Post a Comment