سروں میں سوچ کا اک ایسا رخت چھوڑ گئے
گھروں کے بِیچ بھی لہجے کرخت چھوڑ گئے
حیات جیسے بھی گزرے، گزارنی ہے ہمیں
گِلہ ہو کس سے کہ ساتھ اپنا بخت چھوڑ گئے
کہاں کے یار! سب اچھے دنوں کے ساتھی تھے
پڑا ہے وقت ذرا سا جو سخت، چھوڑ گئے
بِٹھانے والے ہی اکثر اُتارتے رہے ہیں
خوشی سے شاہ کہاں تاج و تخت چھوڑ گئے
علاج کرتے بھی کیا اپنے دل کا نِیم طبیب
مطب میں لائے، کِیا لخت لخت، چھوڑ گئے
بڑوں نے اپنے لیے سہل راستے ڈھونڈے
اور اپنے پیچھے پہاڑوں سے وخت چھوڑ گئے
ابھی تو آنکھ ہی جھپکی تھی برق نے عالی
کہ ساعتوں میں پرندے درخت چھوڑ گئے
جلیل عالی
No comments:
Post a Comment