صفحات

Saturday, 7 October 2023

برہم مزاج ہونے لگا رہنماؤں کا

 برہم مزاج ہونے لگا رہنماؤں کا

جاری ہے ہم پہ سلسلہ ان کی جفاؤں کا

آنے لگی ہیں شہری ہوائیں جو اس طرف

چہرہ بدلتا جاتا ہے اب میرے گاؤں کا

شہرِ ستم کی دھوپ لگی کرنے بد حواس

سب ڈھونڈنے لگے ہیں پتہ ٹھنڈی چھاؤں کا

اہلِ زمیں کے مسئلے باقی ہیں آج تک

کچھ لوگ سیر کرتے ہیں لیکن خلاؤں کا

محفوظ مجھ کو رکھتا ہے شدت کی دھوپ سے

ہے سر پہ سائبان جو ماں کی دعاؤں کا

خاموشیوں کی کھوج میں نکلا ہوں میں سعید

پیچھے ہے میرے کارواں تیکھی صداؤں کا


سعید رحمانی

No comments:

Post a Comment