ہم سے نہ ہو گی ستم سہہ کے مناجات کی بات
ہم سے کیجئے گا فقط لطف و عنایات کی بات
چٹکیاں ہونٹوں کی ہوں جام وصل کے قصے
داستاں زلف کی ہو مہکتی برسات کی بات
ہم نہ بھٹکیں گے کسی دشت میں بن کر مجنوں
ہم حقیقت میں نہ لائیں گے حکایات کی بات
مجھ کو بھی پیاس نے ہلکان کیا تھا سانول
اس نے بھی بات وہی کی وہی اک رات کی بات
سانول حیدری
No comments:
Post a Comment