صفحات

Saturday, 7 October 2023

جو شب بھر آنسوؤں سے تر رہے گا

 جو شب بھر آنسوؤں سے تر رہے گا

سحر دم دامنِ دل بھر رہے گا

علاج اس کا گزر جانا ہے جاں سے

گزر جانے کا جاں سے ڈر رہے گا

ہُوا مشکل تِرے عاشق کا جینا

تِرے کوچے میں آ کر مر رہے گا

دلِ وحشی نے کب آرام پایا

ستم کی آگ میں جل کر رہے گا

حیات جاوِداں ہو یا کہ دنیا

تِرا بندہ تِرے در پر رہے گا

نہ ہو عصیاں تو کیسا حشر کا دن

کہاں پھر داورِ محشر رہے گا

حقائق سے جو دل الجھا ہوا ہے

وہی خوابوں کا صورت گر رہے گا

کوئی تو خیر کا پہلو بھی نکلے

اکیلا کس طرح یہ شر رہے گا

نہ بزمِ مے کدہ باقی رہے گی

نہ دستِ شوق میں ساغر رہے گا

جو دن ہے آنے والا بے اماں ہے

قدم گھر سے اگر باہر رہے گا

کوئی تو اعظمی صاحب کو سمجھاؤ

یہ گوشہ شہر سے بہتر رہے گا


انجم اعظمی

No comments:

Post a Comment