صفحات

Saturday, 7 October 2023

دل احتساب ذات کی زد میں ہے آج کل

 دل احتسابِ ذات کی زد میں ہے آج کل

ہر اک عمل گناہ کی مد میں ہے آج کل

اطرافِ جاں میں رقص ہے شعلوں کا دم بدم

سایہ بھی اپنے جسم کے قد میں ہے آج کل

امواج جذبِ عشق کی سب سر نِگوں ہوئیں

دریائے اضطراب بھی حد میں ہے آج کل

دامن کو ہے سکون، گریباں بھی مطئمن

دیوانگی بھی قیدِ عمد میں ہے آج کل

عالم ہے مست علم سے، میکش شراب سے

کیا امتیاز نیک اور بد میں ہے آج کل

شاعر تو بے نیاز غم و رنج ہو گئے

دل شاد میرا ذکر صمد میں ہے آج کل


سید مجتبیٰ داودی

No comments:

Post a Comment