صفحات

Saturday, 7 October 2023

ناکام ہو کے رہ گئی ہر احتیاط دل

 ناکام ہو کے رہ گئی ہر احتیاطِ دل

اک ہی نظر نے الٹ کے رکھ دی بساطِ دل

جیسے جگا کے نیند سے لُوٹے کوئی متاع

کچھ اس طرح اس آنکھ نے کی وارداتِ دل

اچھے نہیں ہیں ان دنوں موسم کے ذائقے

ہم سے کوئی نہ پوچھے ہمارے حالاتِ دل

ہر تیرگی کو تُو نے اُجالے عطا کیے

مولا کرم کہ بُجھ رہی ہے کائناتِ دل

ساقی کی کرامات سے زندہ ہے زندگی

جامِ شرابِ درد سے باقی ثباتِ دل

اپنے لیے ہے ان کی وہی، سرسری نظر

غیروں کے واسطے ہیں سبھی التفاتِ دل

آبِ وضو ہے خونِ تمنا و آرزو

دم دم خیالِ یار ہے، سانول صلوٰۃِ دل


سانول حیدری

No comments:

Post a Comment