صفحات

Saturday, 7 October 2023

بے سبب شمع کو عادت پڑ گئی جل جانے کی

 بے سبب شمع کو عادت پڑ گئی جل جانے کی

بد دعا لگ گئی شاید کسی پروانے کی

بھیگی راتوں میں کسی غنچے نے دم توڑ دیا

یہ تو میّت ہے، ضرورت نہیں نہلانے کی

ضبط سے کام جو لیتا تو نہ رُسوا ہوتا

عقل ماری گئی لیلیٰ تِرے دیوانہ کی

شیخ صاحب نے بُلا بھیجا ہے ساقی مجھ کو

آج کعبے میں ہے دعوت تِرے مستانے کی

بعد مرنے کے مئے عشق کی خوشبو مہکے

ڈال دو خاک مِری قبر پہ مے خانے کی

تیری باتوں کا بھروسہ نہیں نازاں مجھ کو

جھوٹی جھوٹی تجھے عادت ہے قسم کھانے کی


نازاں شولا پوری

No comments:

Post a Comment