بے سبب شمع کو عادت پڑ گئی جل جانے کی
بد دعا لگ گئی شاید کسی پروانے کی
بھیگی راتوں میں کسی غنچے نے دم توڑ دیا
یہ تو میّت ہے، ضرورت نہیں نہلانے کی
ضبط سے کام جو لیتا تو نہ رُسوا ہوتا
عقل ماری گئی لیلیٰ تِرے دیوانہ کی
شیخ صاحب نے بُلا بھیجا ہے ساقی مجھ کو
آج کعبے میں ہے دعوت تِرے مستانے کی
بعد مرنے کے مئے عشق کی خوشبو مہکے
ڈال دو خاک مِری قبر پہ مے خانے کی
تیری باتوں کا بھروسہ نہیں نازاں مجھ کو
جھوٹی جھوٹی تجھے عادت ہے قسم کھانے کی
نازاں شولا پوری
No comments:
Post a Comment