صفحات

Sunday, 8 October 2023

جوکر نہیں جو ہنسنے ہنسانے کا کام ہے

 جوکر نہیں جو ہنسنے ہنسانے کا کام ہے

وحشی کو کھارا دشت اگانے کا کام ہے

پہلے میں کوئلے کی دکاں پر تھا صاب جی

اب خیر سے، چراغ بنانے کا کام ہے

تجھ سے نظر بچا کے ہنسیں گے تمام لوگ

وہ یوں کہ تیرا دل بھی دُکھانے کا کام ہے

میں بادشاہ بن تو گیا ہوں، مگر مِرا

فریادیوں کے پاؤں دبانے کا کام ہے

اُجرت پہ ایک شخص کو رکھا ہے جس کا صرف

اچھے دنوں کی یاد دلانے کا کام ہے


علی زیرک

No comments:

Post a Comment