صفحات

Sunday, 8 October 2023

بھیڑ میں خود کو گنوانے سے ذرا سا پہلے

 بھیڑ میں خود کو گنوانے سے ذرا سا پہلے

مجھ کو ملتا وہ زمانے سے ذرا سا پہلے

ہجر کی ہم کو کچھ ایسی بری عادت ہے کہ ہم

زہر کھا لیں تِرے آنے سے ذرا سا پہلے

گرچہ پکڑے نہ گئے دوستو لیکن ہم بھی

چور تھے شور مچانے سے ذرا سا پہلے

کچھ نہیں سوچا پرندوں سے شجر چھین لیے

دشت میں شہر بسانے سے ذرا سا پہلے

دھول تھے تم مِرے قدموں سے لپٹنے پہ مصر

خاک تھے چاک پہ جانے سے ذرا سا پہلے

جائے عبرت ہے کہ پھوٹیں نہ تمہاری آنکھیں

مجھے یوں آنکھ دکھانے سے ذرا سا پہلے


تسلیم نیازی

No comments:

Post a Comment