بھیڑ میں خود کو گنوانے سے ذرا سا پہلے
مجھ کو ملتا وہ زمانے سے ذرا سا پہلے
ہجر کی ہم کو کچھ ایسی بری عادت ہے کہ ہم
زہر کھا لیں تِرے آنے سے ذرا سا پہلے
گرچہ پکڑے نہ گئے دوستو لیکن ہم بھی
چور تھے شور مچانے سے ذرا سا پہلے
کچھ نہیں سوچا پرندوں سے شجر چھین لیے
دشت میں شہر بسانے سے ذرا سا پہلے
دھول تھے تم مِرے قدموں سے لپٹنے پہ مصر
خاک تھے چاک پہ جانے سے ذرا سا پہلے
جائے عبرت ہے کہ پھوٹیں نہ تمہاری آنکھیں
مجھے یوں آنکھ دکھانے سے ذرا سا پہلے
تسلیم نیازی
No comments:
Post a Comment