صفحات

Saturday, 6 January 2024

کیا ہے اچھا اور کیا اچھا نہیں

 زعفرانی غزل


کیا ہے اچھا اور کیا اچھا نہیں

میرے کہنے سے تو کچھ ہوتا نہیں

سچ تو ہے آپ اب کچھ بھی کہیں

آپ نے سچ تو کبھی بولا نہیں

اس کی پیشانی پہ سب تحریر تھا

اس لیے نام و نسب پوچھا نہیں

شہر میں اب طوطا چشمی عام ہے

میری مُشکل یہ ہے میں طوطا نہیں

اب تو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں

رہ گیا دھوکا سو میں دیتا نہیں

آج کیا سوچوں میں کل کے واسطے

آج سے آگے کبھی سوچا نہیں

شاخِ گُل پر گُلبدن عُریاں ہیں کیوں

کیا درختوں پر کوئی پتّا نہیں؟


امیر الاسلام ہاشمی

No comments:

Post a Comment