زعفرانی غزل
سونی ہو یا ایل جی ہو، یا ہائیر یا ہٹاچی
بِن ٹی وی کے زندہ نہیں رہ سکتی ہے چاچی
مقدور کہاں روز مِلن ہیر سے میرا
میں گُلشنِ معمار میں، وہ مائی کُلاچی
مانا کہ نہیں کوئی بھی کَل اونٹ کی سِیدھی
پر یاد رہے، اتنی بھی سیدھی نہیں ڈاچی
سیلفی تو بنانے دے مجھے عید کے دن پر
نُوری سے یہ کہتا ہی رہا جام تماچی
مُمکن نہیں کر پائے ذرا سی بھی ترقی
وہ قوم جو لیڈر کے اشاروں پہ ہو ناچی
سرکار! کہاں بندۂ مسکین، کہاں آپ؟
چک جُھمرہ کہاں اور کہاں شہرِ کراچی؟
شاعر کو اگر ایک بھی سامع نہ ملے تو
پھرتا ہے کہ جیسے ہو کوئی گائے گواچی
عرفان قادر
No comments:
Post a Comment