صفحات

Sunday, 7 January 2024

زرد پتوں کا بن جو مرا دیس ہے

 زرد پتوں کا بن


زرد پتوں کا بن جو مِرا دیس ہے

درد کی انجمن جو مِرا دیس ہے

جب پڑھے تھے یہ مصرعے تو کیوں تھا گماں

زرد پتوں کا بن فیض کا دیس ہے

درد کی انجمن فیض کا دیس ہے

بس وہی دیس ہے

جو کہ تاریک ہے

بس اسی دیس تک ہے

خزاں کی ڈگر

بس وہی دیس ہے زرد پتوں کا بن

بس وہی دیس ہے درد کی انجمن

مجھ کو کیوں تھا یقیں

کہ مِرے دیس میں

زرد پتوں کے گِرنے کا موسم نہیں

مجھ کو کیوں تھا یقیں

کہ مرے دیس تک

پت جھڑوں کی کوئی رہگزر ہی نہیں

اس کے دامن پہ جتنے بھی دھبے لگے

اگلی برسات آنے پہ دھل جائیں گے

اب جو آیا ہے پت جھڑ مرے دیس میں

دھڑکنیں زندگی کی ہیں

رک سی گئیں

خنجروں کی زباں رقص کرنے لگی

پھول کھلنے پہ پابنداں لگ گئیں

قتل گاہیں سجائی گئیں جا بجا

اور انصاف صولی چڑھایا گیا

خون کی پیاس اتنی بڑھی آخرش

جام و مینا لہو سے چھلکنے لگے

نام کس کے کروں

ان خزاؤں کو میں

کس سے پوچھوں

بہاریں کدھر کھو گئیں

کس سے جا کر کہوں

زرد پتوں کا بن اب مرا دیس ہے

درد کی انجمن اب مرا دیس ہے

اے مرے ہم نشیں

زرد پتوں کا بن، درد کی انجمن

آنے والے سفیروں کی قسمت نہیں

یہ بھی سچ ہے کہ اس

فیض کے دیس میں

چاند ظلمت کے گھیرے میں جتنا بھی ہو

نور اس کا بکھرتا تھا ہر شب وہاں

پا بہ جولاں سہی پھر بھی سچ ہے یہی

زندگی اب بھی رقصاں ہے اس دیس میں

قتل گاہیں سجی ہیں اگر جا بجا

غازیوں کی بھی کوئی کمی تو نہیں

اور مرے دیس میں

رات لمبی سہی

چاند مدھم سہی

مجھ کو ہے یہ یقیں

خلق اٹھے گی ہاتھوں میں پرچم لئے

صبح پازیب پہنے ہوئے آئے گی

رن پڑے کا بہاروں خزاؤں کا جب

رنگ بکھریں گے اور رات ڈھل جائے گی

زرد پتوں کا بن بھی سمٹ جائے گا

درد کی انجمن بھی سمٹ جائے گی


گوہر رضا

No comments:

Post a Comment