عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ابھی زہراؑ کے بیٹوں کا بشر کو دان باقی ہے
سلامت نوکِ نیزہ ہے، ابھی قرآن باقی ہے
ضمیر اپنے جو منصب سے گِرا ہے چودہ صدیوں سے
یزیدی سوچ رکھتا ہے، ابھی شیطان باقی ہے
جو تم نے نُورِ احمدؐ پر چلائی تیغ تھی ظالم
اے مُنکر! جنگ کربل کا ابھی میزان باقی ہے
ملے توفیقِ یزداں جو بسائے آنکھ میں آنسو
دلوں میں رِقت و غم کا ابھی فیضان باقی ہے
جو لکھتا تھا مسافر اک لہو سے اپنی مٹی پر
اُسی مظلوم کربل کا ابھی دیوان باقی ہے
عقیدت کا ادا جاذب کرے گا خُمس یوں ہر پل
سفر یہ عشق کا جاری ہے جب تک جان باقی ہے
ثمر جاذب
No comments:
Post a Comment