صفحات

Wednesday, 10 January 2024

لفظوں کا اعتبار ہے حسن ادا کے ہاتھ

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


لفظوں کا اعتبار ہے حُسنِ ادا کے ہاتھ

انسان کا وقار ہے حرفِ حیا کے ہاتھ

من کنت کی صدا پہ بصد شوق و ابتہاج

بیعت کو بڑھ رہے ہیں سبھی انبیا کے ہاتھ

طوفاں میں نام سید سجادؑ کے طفیل

کشتی ہماری کھینے لگے خُود دُعا کے ہاتھ

پیاسی تڑپ رہی تھی فُرات آب کے لیے

غازی نے تشنگی کو بُجھایا لگا کے ہاتھ

چھت پر عَلم لگاتے ہیں ہم لوگ اس لیے

سایہ فگن سروں پہ رہیں با وفا کے ہاتھ

صائب نہ بخشا جائے یہ ممکن کہاں جناب

"ہے آبرو فقیر کی شاہِ ولا کے ہاتھ"


صائب جعفری

No comments:

Post a Comment