عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مصیبت میں ہمیشہ رب عالم کو پکارا ہے
وہ پالنہار ہے میرا، وہی میرا سہارا ہے
تِری صنّاعی پر سائنس بھی ششدر ہے ہر لمحہ
زمین و آسماں کو تُو نے حکمت سے سنوارا ہے
کہا کُن تُو نے جب مولا، تو پھر یہ بن گئی دُنیا
یہ دُنیا تیری قُدرت کا فقط اِک استعارا ہے
سر محشر خُدائے پاک یہ پُوچھے گا تجھ سے بھی
بتا دُنیا میں اپنی زیست کو کیسے گُزارا ہے
کلام پاک میں اللہ کا یہ حُکم بھی دیکھا
مِرے محبوب کا جو ہو گیا وہ مجھ کو پیارا ہے
ہو رب کا خوف جس دل میں وہ طُوفاں سے نہیں ڈرتا
سمندر میں بھی رہ کے ہاتھ میں اس کے کنارا ہے
امام الانبیاءﷺ تم کو بنایا ذاتِ باری نے
خُدا کے بعد رتبہ سیّدِ عالمﷺ تمہارا ہے
خُدا کا شُکر ہے ہر سمت ہے آگے قدم تیرا
تجھے طاہر خُدا نے آپؐ کے صدقے نکھارا ہے
طاہر سلطانی
No comments:
Post a Comment