عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کرتے ہیں عرضِ حال زبانِ قلم سے ہم
یوں بھیک مانگتے ہیں امامِ اُمم سے ہم
دیکھیں ہماری بات کا ملتا ہے کیا جواب
بیٹھے ہیں لَو لگائے نگاہِ کرم سے ہم
دربارِ مصطفیٰﷺ میں ضروری ہے احتیاط
افسانہ کہہ رہے ہیں فقط چشمِ نم سے ہم
گُلدستہ اک سجانا ہے نعتِ رسولﷺ کا
کچھ پُھول چُن کے لائے ہیں باغِ حرم سے ہم
روکیں ہماری راہ حوادث کی کیا مجال
رکھتے ہیں ربط صاحبِ لوح و قلم سے ہم
لے کر چراغ ہاتھ میں عشقِ رسولﷺ کا
مردانہ وار گُزرے ہیں راہِ ظُلم سے ہم
وہ جن کا نام سیدِ خیرالانامﷺ ہے
وابستہ ہیں انہیں کے نقوشِ قدم سے ہم
اقبال ہم کو فکر نہیں روزِ حشر کی
مانوس ہیں مزاجِ شفیع الاممؐ سے ہم
اقبال عظیم
No comments:
Post a Comment