صفحات

Saturday, 10 August 2024

حل ہی نہ ہو جس کا وہ معما تو نہیں ہے

 حل ہی نہ ہو جس کا وہ معما تو نہیں ہے

مکتوب ازل حرف تمنا تو نہیں ہے

دل ہی کی خدائی ہے یہاں آج بھی اے دوست

پابند نظر کیف کی دنیا تو نہیں ہے

بے بہرۂ عرفان محبت ہے ازل سے

سوچا ہے تجھے عقل نے دیکھا تو نہیں ہے

اندوہ بداماں نہ ہو خود موج ترنم

آواز کا ہر شعبدہ نغما تو نہیں ہے

ہر راہ نظر آنے لگے مجھ کو رہ راست

بے راہروی تیرا یہ منشا تو نہیں ہے

غم کیا اگر آزاد مسلسل ہے مری زیست

منت کش اعجاز مسیحا تو نہیں ہے

یعقوب سنانا ہے مجھے دل کی زباں میں

افسانے کا پہلو کوئی تشنا تو نہیں ہے


یعقوب عثمانی

No comments:

Post a Comment