سکوت ٹوٹنے والا ہے حادثہ ہو گا
میں جانتا ہوں کہ پھر کوئی سانحہ ہو گا
میں اپنے آپ کو رک کر سمیٹ لوں اب بھی
کہ اس سے آگے بہت سخت مرحلہ ہو گا
ہر ایک منظر خوش رنگ بے پناہ سہی
مِری نظر میں وہی عکس گم شدہ ہو گا
نشان پائے گا اپنا نہ اس سفر میں وہ
جہاں بھی جائے گا سنسان راستہ ہو گا
ہماری روح ہمارے بدن کو ترسے گی
ہمارے بیچ تو صدیوں کا فاصلہ ہو گا
نہ رو بہ رو کسی خواہش کی تشنگی ہو گی
نہ اس کے ہونٹوں کا شاداب ذائقہ ہو گا
ہمارا ذوق ہنر ہے صداقتوں کا امیں
ہمارے حق میں بھلا کیسے فیصلہ ہو گا
ناز قادری
No comments:
Post a Comment