صفحات

Saturday, 10 August 2024

سکوت ٹوٹنے والا ہے حادثہ ہو گا

 سکوت ٹوٹنے والا ہے حادثہ ہو گا

میں جانتا ہوں کہ پھر کوئی سانحہ ہو گا

میں اپنے آپ کو رک کر سمیٹ لوں اب بھی

کہ اس سے آگے بہت سخت مرحلہ ہو گا

ہر ایک منظر خوش رنگ بے پناہ سہی

مِری نظر میں وہی عکس گم شدہ ہو گا

نشان پائے گا اپنا نہ اس سفر میں وہ

جہاں بھی جائے گا سنسان راستہ ہو گا

ہماری روح ہمارے بدن کو ترسے گی

ہمارے بیچ تو صدیوں کا فاصلہ ہو گا

نہ رو بہ رو کسی خواہش کی تشنگی ہو گی

نہ اس کے ہونٹوں کا شاداب ذائقہ ہو گا

ہمارا ذوق ہنر ہے صداقتوں کا امیں

ہمارے حق میں بھلا کیسے فیصلہ ہو گا


ناز قادری

No comments:

Post a Comment