صفحات

Wednesday, 29 October 2025

پھر کوئی آ رہا ہے دل کے قریب

 پھر کوئی آ رہا ہے دل کے قریب

داغ تازہ کھلا ہے دل کے قریب

پھر کوئی یاد سایہ افگن ہے

دھندلی دھندلی فضا ہے دل کے قریب

پھر کوئی تازہ واردات ہوئی

جمگھٹا سا لگا ہے دل کے قریب

آج بھی چین سے نہ سوئیے گا

پھر کہیں رتجگا ہے دل کے قریب

کل کھلے تھے یہاں نشاط کے پھول

اب دھواں اٹھ رہا ہے دل کے قریب


محمد صفدر میر

No comments:

Post a Comment