صفحات

Wednesday, 29 October 2025

کشمکش دل یہ بولے کہ باندھ رخت سفر

 کشمکش


دل یہ بولے کہ باندھ رخت سفر

اور ذہن آئے بیڑیاں بن کر

اب اذیت تِرا مقدر ہے

تُو نکل جا یا دیکھ لے رک کر

ہاں مگر ایک ایک لمحہ وہ

جو تُو اس کشمکش سے گزرے گا

اک حسیں باب بن کے یادوں کا

عمر بھر تیرے ساتھ ٹھہرے گا

وہ سفر جو نہ طے کیا تُو نے

پیار سے بار بار چھیڑے گا


صلاح الدین ایوب

No comments:

Post a Comment