کشمکش
دل یہ بولے کہ باندھ رخت سفر
اور ذہن آئے بیڑیاں بن کر
اب اذیت تِرا مقدر ہے
تُو نکل جا یا دیکھ لے رک کر
ہاں مگر ایک ایک لمحہ وہ
جو تُو اس کشمکش سے گزرے گا
اک حسیں باب بن کے یادوں کا
عمر بھر تیرے ساتھ ٹھہرے گا
وہ سفر جو نہ طے کیا تُو نے
پیار سے بار بار چھیڑے گا
صلاح الدین ایوب
No comments:
Post a Comment