مذاق زاہد ناداں کو اپنانے کہاں جاتے
حرم کی سمت ہم جھکتے تو بت خانے کہاں جاتے
بھلا ہو دشت و صحرا کا جنوں کی رہ گئی عزت
نہ ہوتے دشت و صحرا گر تو دیوانے کہاں جاتے
ہے تیری بندگی لازم، مگر تُو ہی بتا یا رب
تجھی کو سجدہ سب کرتے تو بت خانے کہاں جاتے
میری صحرا نوردی میں ہزاروں راز پنہاں تھے
میری وحشت نہ کام تی تو ویرانے کہاں جاتے
جو آ جاتے تیری باتوں میں ہم سے رند بھی زاہد
تیری عصمت کے شاہد پھر یہ میخانے کہاں جاتے
اگر ذوقِ جبیں ساقی تو تیرا در نہ مل جاتا
تُو ہی کہہ دے کہ سر ہم اپنا ٹکرانے کہاں جاتے
ہے احساں نا خدا کا مل گیا ساحل ہمیں ورنہ
پھنسے تھے موجِ طوفاں میں خدا جانے کہاں جاتے
زمانہ تھا مخالف اور ساقی بخت برگشتہ
کسی کے در سے اٹھ کر ٹھوکریں کھانے کہاں جاتے
ساقی لکھنوی
اولاد علی رضوی
No comments:
Post a Comment