اب کیا کہیں عذاب یہ لمحات کیوں ہوئے
قاتل ہی پوچھتا ہے؛ فسادات کیوں ہوئے
پتھر دلوں کو موم بناتے تو بات تھی
شیشہ شکن یہ آج کے حالات کیوں ہوئے
کیسے کہوں کسی سے مشینوں کے شہر میں
دل کے لیے زوال کمالات کیوں ہوئے
کیا دل کا درد آج بھی دل ہی میں رہ گیا
محفل میں بے اثر مِرے نغمات کیوں ہوئے
گزری ہیں کیا یہاں سے ہوسناک آندھیاں
دھندلے رہِ وفا کے نشانات کیوں ہوئے
تم ہم بھی ہیں قریب سماں بھی ہے جاں فزا
بے کیف پھر دلوں کے پیامات کیوں ہوئے
انسانیت نواز اجالوں کے باوجود
اسرار غمزدہ مِرے جذبات کیوں ہوئے
اسرار اکبرآبادی
سید اسرار حسین
No comments:
Post a Comment