یاد محبوب سے دل گر کبھی خالی ہو گا
فیصلہ تجھ سے پھر اے خام خیالی ہو گا
لاکھ ہم لوگ پیے جائیں بقدرِ ہمت
میکدہ درد کا اشکوں سے نہ خالی ہو گا
دولتِ درد ملے اور ملے اور ملے
دلِ برباد سا کوئی نہ سوالی ہو گا
وقت گزرے گا تو یہ زخم بھی گہرے ہوں گے
ہجر کا دن بھی کبھی رشک لیالی ہو گا
یہی بے تاب سا، خاموش سا غمگین صبا
تیرا مارا ہوا اے ہمتِ عالی ہو گا
صبا جائسی
کبیر احمد
No comments:
Post a Comment