Wednesday, 17 December 2025

یاد محبوب سے دل گر کبھی خالی ہو گا

 یاد محبوب سے دل گر کبھی خالی ہو گا

فیصلہ تجھ سے پھر اے خام خیالی ہو گا

لاکھ ہم لوگ پیے جائیں بقدرِ ہمت

میکدہ درد کا اشکوں سے نہ خالی ہو گا

دولتِ درد ملے اور ملے اور ملے

دلِ برباد سا کوئی نہ سوالی ہو گا

وقت گزرے گا تو یہ زخم بھی گہرے ہوں گے

ہجر کا دن بھی کبھی رشک لیالی ہو گا

یہی بے تاب سا، خاموش سا غمگین صبا

تیرا مارا ہوا اے ہمتِ عالی ہو گا


صبا جائسی ​

کبیر احمد

No comments:

Post a Comment