Thursday, 25 December 2025

حسن ہے داد طلب شکوۂ بیداد نہ کر

حسن ہے داد طلب شکوۂ بے داد نہ کر

عشق کی فتح اسی میں ہے کہ فریاد نہ کر

ہے اگر ہمت پرواز تو اے مرغِ اسیر

طائرِ روح کو منت کش صیاد نہ کر

تشنۂ لذت غم ہے دل پر درد ہنوز

تو ابھی ترکِ ستم اے ستم ایجاد نہ کر

ہم نشیں اپنے مقدر کی شکایت کرکے

میری رعنائیٔ افکار کو برباد نہ کر

تجھ کو صیاد مرے ذوق اسیری کی قسم

چھوڑ دے ہم قفسوں کو مجھے آزاد نہ کر

وہ نہ آئے ہیں نہ آئیں گے پلٹ کر میکش

ایسے گزرے ہوئے لمحات کو اب یاد نہ کر


میکش لکھنوی

آغا محمد حیدر 

No comments:

Post a Comment