حسن ہے داد طلب شکوۂ بے داد نہ کر
عشق کی فتح اسی میں ہے کہ فریاد نہ کر
ہے اگر ہمت پرواز تو اے مرغِ اسیر
طائرِ روح کو منت کش صیاد نہ کر
تشنۂ لذت غم ہے دل پر درد ہنوز
تو ابھی ترکِ ستم اے ستم ایجاد نہ کر
ہم نشیں اپنے مقدر کی شکایت کرکے
میری رعنائیٔ افکار کو برباد نہ کر
تجھ کو صیاد مرے ذوق اسیری کی قسم
چھوڑ دے ہم قفسوں کو مجھے آزاد نہ کر
وہ نہ آئے ہیں نہ آئیں گے پلٹ کر میکش
ایسے گزرے ہوئے لمحات کو اب یاد نہ کر
میکش لکھنوی
آغا محمد حیدر
No comments:
Post a Comment