یاد ہے اب تک یاد وہ عالم
مل گئیں نظریں ایک دن باہم
بن گئے ہم خود عشق مجسم
پھر بھی مزاجِ حُسن ہے برہم
مے خانے کا اف یہ عالم
جام و سبو ہیں درہم برہم
دم گھٹتا ہے ارمانوں کا
کانپ رہی ہے الفت ہر د
خوبئ قسمت اللہ اللہ
ان کی مسرت اپنا ہر غم
فراقِ مراتب اللہ اللہ
آنسو آنسو شبنم شبنم
دل میں اک طوفان ہے فیضی
ان کے تصور کا یہ عالم
فیضی نظام پوری
No comments:
Post a Comment