Saturday, 31 January 2026

یاد ہے اب تک یاد وہ عالم

 یاد ہے اب تک یاد وہ عالم

مل گئیں نظریں ایک دن باہم

بن گئے ہم خود عشق مجسم

پھر بھی مزاجِ حُسن ہے برہم

مے خانے کا اف یہ عالم

جام و سبو ہیں درہم برہم

دم گھٹتا ہے ارمانوں کا

کانپ رہی ہے الفت ہر د

خوبئ قسمت اللہ اللہ

ان کی مسرت اپنا ہر غم

فراقِ مراتب اللہ اللہ

آنسو آنسو شبنم شبنم

دل میں اک طوفان ہے فیضی

ان کے تصور کا یہ عالم


فیضی نظام پوری

No comments:

Post a Comment