صفحات

Monday, 16 March 2026

نہ کچھ تکرار تم کو ہے نہ کچھ شکوہ ہمارا ہے

 نہ کچھ تکرار تم کو ہے نہ کچھ شکوہ ہمارا ہے

یہ دل کیا چیز ہے اب جان تک دینا گوارا ہے

دم رفتار اٹھا فتنے قیامت کا اشارہ ہے

تِرا منہ دیکھنا خورشید محشر کو نظارا ہے

وہ مہ رو اے فلک پھرتا ہے ہر شب میری آنکھوں میں

تصور نے مِرے غم خانے میں اک چاند تارا ہے

سر بالیں نہ پایا تجھ کو اے عیسیٰ تو گھبرا کر

شب فرقت میں عزرائیل کو ہم نے پکارا ہے

فلک قاتل ہے تیغ ماہ نو کے زخم ہیں تن پر

شفق ہے خوں ہمارا چاندنی نے ہم کو مارا ہے

بجا ہے تجھ سے اے بت خلق کو دعویٰ محبت کا

خدا واحد ہے پر ہر شخص کہتا ہے ہمارا ہے

میں ہوں اے ہم صفیر بلبل زار اس گلستاں کا

جو ٹھیکے میں ہے صیادوں کے گلچیں کا اجارا ہے

نہ پوچھو حال کچھ دل کی لگی کا مجھ جلے تن کی

جہنم جس کو کہتے ہیں وہ اس کا اک شرارا ہے

سیہ کاری ہی میں نے عمر بھر کی تیرہ بختی سے

تِرا حال سیہ کیا میری قسمت کا ستارہ ہے

مجھے بھی پار اترنا ہے ڈبو کر کشتیٔ تن کو

کنارا گور کا گر بحر الفت کا کنارا ہے

گرا ہوں کیا جدائی میں بہ زور ناتوانی سے

نہ طاقت آہ کرنے کی نہ اف کرنے کا یارا ہے

نکلتا ہے مرا دم مجمع یاراں ہے بالیں پر

نہ منہ سے بات ہوتی ہے نہ آنکھوں سے اشارہ ہے

فروغ خال روئے آتشیں پر ہو نہیں ممکن

کہیں خورشید کے بھی سامنے چمکا ستارہ ہے

بنایا دانۂ انگور کا کنٹھا ہے مستی میں

چمن میں بہر مے خواری کیا جب استخارا ہے

کسی صورت مِری بخشش نہیں اے عرش ہے ممکن

پیمبر کا وسیلہ ابر رحمت کا سہارا ہے


میر کلو عرش

میر حسن عسکری

No comments:

Post a Comment