جان سے جاتے رہے جان سے جانا نہ گیا
دل گیا عشق میں پر دل کا لگانا نہ گیا
موت کے بعد بھی اک بوجھ اٹھا رکھا ہے
سر تو جانا ہی تھا پر حیف کہ شانا نہ گیا
آج بھی آ کے وہ آنکھوں میں چہک اٹھتا ہے
گلشن دل سے کبھی تیرا زمانہ نہ گیا
کل فرشتوں نے بہت کھینچا پکڑ کر دامن
چھوڑ کر تجھ کو مگر تیرا دِوانہ نہ گیا
لے کے انگڑائی قیامت نے بدل دی دنیا
وقت کے لب سے مگر میرا فسانہ نہ گیا
اس طرح دونوں تعلق کا بھرم رکھتے رہے
روٹھنا اس کا بھی اپنا بھی منانا نہ گیا
اس کے ناخون کی رعنائی بتا دیتی ہے
اس کی عادت سے ابھی دل کا دکھانا نہ گیا
یہ الگ بات کے قدرت نے پلٹ دی بازی
فیصلہ عشق کے حق میں کبھی مانا نہ گیا
ابتدا سے یہ ہے دستور زمانہ کا ندیم
دل کو سمجھا نہ گیا درد کو جانا نہ گیا
نرمل ندیم
No comments:
Post a Comment