صفحات

Monday, 16 March 2026

جان سے جاتے رہے جان سے جانا نہ گیا

 جان سے جاتے رہے جان سے جانا نہ گیا

دل گیا عشق میں پر دل کا لگانا نہ گیا

موت کے بعد بھی اک بوجھ اٹھا رکھا ہے

سر تو جانا ہی تھا پر حیف کہ شانا نہ گیا

آج بھی آ کے وہ آنکھوں میں چہک اٹھتا ہے

گلشن دل سے کبھی تیرا زمانہ نہ گیا

کل فرشتوں نے بہت کھینچا پکڑ کر دامن

چھوڑ کر تجھ کو مگر تیرا دِوانہ نہ گیا

لے کے انگڑائی قیامت نے بدل دی دنیا

وقت کے لب سے مگر میرا فسانہ نہ گیا

اس طرح دونوں تعلق کا بھرم رکھتے رہے

روٹھنا اس کا بھی اپنا بھی منانا نہ گیا

اس کے ناخون کی رعنائی بتا دیتی ہے

اس کی عادت سے ابھی دل کا دکھانا نہ گیا

یہ الگ بات کے قدرت نے پلٹ دی بازی

فیصلہ عشق کے حق میں کبھی مانا نہ گیا

ابتدا سے یہ ہے دستور زمانہ کا ندیم

دل کو سمجھا نہ گیا درد کو جانا نہ گیا


نرمل ندیم

No comments:

Post a Comment