قریب تھا کہ میں کہہ دیتا جاؤ چھوڑ دیا
کسی نے ہاتھ پکڑ کر مجھے جھنجھوڑ دیا
اچھل رہا تھا کناروں سے نیند کا دریا
سو میں نے خواب کا رخ اور سمت موڑ دیا
ہوا نے ہاتھ نہ تھاما مِری صداؤں کا
تو میں طیش میں آ کر چراغ توڑ دیا
پری نے قید کیا مجھ کو ایک پُتلے میں
اور ایک شام اچانک گلا مروڑ دیا
پرانے یار سے دیکھی گئی نہ پیاس مِری
شجر نے اپنی رگوں سے لہو نچوڑ دیا
نصراللہ حارث
No comments:
Post a Comment