صفحات

Monday, 16 March 2026

قریب تھا کہ میں کہہ دیتا جاؤ چھوڑ دیا

 قریب تھا کہ میں کہہ دیتا جاؤ چھوڑ دیا

کسی نے ہاتھ پکڑ کر مجھے جھنجھوڑ دیا

اچھل رہا تھا کناروں سے نیند کا دریا

سو میں نے خواب کا رخ اور سمت موڑ دیا

ہوا نے ہاتھ نہ تھاما مِری صداؤں کا

تو میں طیش میں آ کر چراغ توڑ دیا

پری نے قید کیا مجھ کو ایک پُتلے میں

اور ایک شام اچانک گلا مروڑ دیا

پرانے یار سے دیکھی گئی نہ پیاس مِری

شجر نے اپنی رگوں سے لہو نچوڑ دیا


نصراللہ حارث

No comments:

Post a Comment