ہاں امتحانِ سوزِ دروں کر چکے ہیں ہم
اب ترک راہ و رسمِ جنوں کر چکے ہیں ہم
ڈرتے ہیں ناشناسی اہلِ کرم سے اب
دل رفتگاں کی یاد میں خوں کر چکے ہیں ہم
اب ان سے بے رُخی کی شکایت فضول ہے
خود پرچمِ طلب ہی نِگوں کر چکے ہیں ہم
روئیں گے اب گُلوں سے لِپٹ کر بہار میں
کتنا خزاں میں مال زبوں کر چکے ہیں ہم
چھٹتی نہیں ہے دل سے یہ وابستگئ شوق
ناجی بہت سخن کا ہی خوں کر چکے ہیں ہم
نذیر ناجی
No comments:
Post a Comment