صفحات

Monday, 6 April 2026

ہوائیں لاکھ چلیں میں بکھرنے والا نہیں

 جو میں نے کہہ دیا اس سے مُکرنے والا نہیں 

کہ آسمان زمیں پر اترنے والا نہیں 

میں ریزہ ریزہ ہوں لیکن نمی ابھی تک ہے 

ہوائیں لاکھ چلیں میں بکھرنے والا نہیں 

میں جانتا ہوں وہ اچھے دنوں کا ساتھی ہے 

بُرے دنوں میں ادھر سے گُزرنے والا نہیں 

ہمارے شہر میں چہرہ نہیں رہا شاید 

پڑے ہیں آئینہ خانے سنورنے والا نہیں 

تِرے کرم کا سزا وار میں ہوں یا دل ہے 

دیا ہے تُو نے وہ کاسہ جو بھرنے والا نہیں 

کہاں کا خواب مسافر کی آنکھ میں عازم

کہ بہتے پانی میں منظر ٹھہرنے والا نہیں


عین الدین عازم

No comments:

Post a Comment