ستم گروں کو تو اچھا بُرا نہیں دِکھتا
سیاہ شب میں کوئی آئینہ نہیں دکھتا
زر و جمال کے پردے پڑے ہیں آنکھوں پر
یہی سبب ہے، کوئی معجزہ نہیں دکھتا
ضروری تو نہیں وہ واقعہ ہوا ہی نہ ہو
ہماری آنکھ کو جو واقعہ نہیں دکھتا
گُھما کے رکھ دیا ایسا خدا کو دنیا نے
کسی بھی سمت سے کامل خدا نہیں دکھتا
نگینے جوڑ دئیے عرش و فرش پر جب سے
عجب ہے صحن میں کچھ بھی ہرا نہیں دکھتا
جلا رہا ہوں جو خود کو کہ جل کے دکھلاؤں
🪔جلے بغیر دِیا بھی دِیا نہیں دکھتا🪔
جو کھا کے سو گئے تھے زین نیند کی گولی
وگرنہ خواب کی دُنیا میں کیا نہیں دکھتا
زین علی آصف
No comments:
Post a Comment