کبھی جو شہرِ وفا میں جنوں کی بات چلے
ہمارے درد کا قصہ تمام رات چلے
نشاطِ جاں بھی نہیں شعلۂ نوا بھی نہیں
اٹھاؤ ساز کہ رقصِ غمِ حیات چلے
بہ صدا وقار پئیں زندگی کے پیمانے
بہ صد سرور غمِ زندگی کی بات چلے
ہمارے جام میں ہوتی ہے خونِ دل کی کشید
ہمارے نام سے اب مے کدہ کی رات چلے
ہے فصلِ گُل کا تقاضا کہ میرے ہو کے رہو
جنوں کو ضد کہ اسی دلربا کی بات چلے
حدیثِ لالہ رُخاں سن چکے سروش بہت
شکستِ دار و رسن کی بھی کوئی بات چلے
متین سروش
مرزا متین بیگ
No comments:
Post a Comment