عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اٹھا وہ جو تھا میم کا پردہ شب معراج
احمدؐ نے احد آپ کو پایا شب معراج
جھگڑا جو ہوا عشق ابد حسن ازل میں
اک آن میں حضرت نے چکا یا شب معراج
حضرت ہی کی صورت کو گئی دیکھنے حضرت
حضرت ہی تھے حضرت کا تماشا شب معراج
اک شان کے دو نام ہیں اللہ محمدﷺ
اُمت پہ کھلا ہے یہ معما شب معراج
بیداری میں رویا میں نظر آتے ہیں حضرت
ہنستا ہوں میں ہر روز ہے میرا شب معراج
تھے طالب مطلوب جو اک جان دو قالب
حضرت نے یہ اسرار کو جانا شب معراج
عالم شجر موم تھا سو رنگ سے ظاہر
اک رنگ ہی حضرت نے جو رگڑا شب معراج
جانا جو فلک پہ تھا وہ آنا تھا وطن کو
دیکھا میں طلسم شۂ والا شب معراج
وطن حیدرآبادی
No comments:
Post a Comment