جنگ کس سے لڑوں؟
اس زمیں سے
جہاں میرے دشمن کی بیٹی کا اسکول ہے
اس سپاہی سے؟
جو اپنی محبوب عورت کی ناراض بانہوں کا
صدمہ اٹھائے ہوئے لڑ رہا ہے
ان درختوں سے؟
جن کی حمایت میں اتنا ہی کافی ہے
ہارے ہوئے جنگجو ان کے سائے میں آرام کرتے ہیں
بندوق کے کارخانوں میں مزدور جسموں سے؟
یورینیم سے تحفظ کی امید باندھے ہوئے
اپنے لوگوں کی کمزور دانائی سے؟
مورچے پر اگی گھاس میں
کھیلتی تتلیوں سے لڑوں؟
میں نہیں لڑ سکوں گا
مجھے ہارنے کی سزا میں
ان آبادیوں سے کہیں دور
جنگل بدر کر دیا جائے
میں کم سے کم اپنی تاریخ میں
اس حوالے سے زندہ رہوں گا
کہ جب میری ہمسائی سرحد
گھنی جھاڑیوں میں چھپی فاختاؤں کے انڈے
بچاتے ہوئے لڑ رہی تھی
تو میں زندگی کی حمایت میں
ہتھیار ڈالے ہوئے کہہ رہا تھا؛
"اجل کی قسم"
"مجھ کو جنگوں سے انکار کرنے کی خاطر اتارا گیا"
منیر جعفری
No comments:
Post a Comment