صفحات

Sunday, 12 April 2026

بتائیں کیا کہ ہمیں کیا ملا مدینے سے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بتائیں کیا کہ ہمیں کیا ملا مدینے سے

خدا گواہ، ملا خود خدا مدینے سے

نگاہ ناز سے پایا جوازِ ہست و وجود

مِری ہے ہستی کا ہر سلسلہ مدینے سے

درِ کریم سے وابستگی ہے روحوں کی

ہمیں جو عشق ہے، بے انتہا مدینے سے

یہ آرزو ہے زمانے پہ منعکس کر دوں

کشید کرتا ہے دل جو ضیاء مدینے سے

حضورﷺ آپ تو شاہد ہیں پر پئے تالیف

غلام پُرسی کو بھیجیں صبا مدینے سے

ہر ایک راہ نکلتی ہے اس سے طیبہ کی

جڑا ہوا ہے یہ شہر ثناء مدینے سے

خدا گواہ بجُز اذن، نعت ہوتی نہیں

دریچے لطف کے ہوتے ہیں وا مدینے سے

بنا ہی دیں گے مِری قبر کو مدینہ حضور

لحد میں آئیں گے جب مصطفیٰؐ مدینے سے

عدیم اور کیا لطفِ نبیﷺ بتاؤں تمہیں

نظر میں رکھتے ہیں خیرالوریٰ مدینے سے


عباس عدیم قریشی

No comments:

Post a Comment