کوئی تو پھول کسی شاخ سے پکارے مجھے
پسند آتے ہیں خوشبو کے استعارے مجھے
مجھی سے عام ہوا ہے یہ شہر میں اور تم
سکھا رہے ہو محبت کا کھیل پیارے، مجھے
وہ دیکھتا رہے ہر حال میں مرا رستہ
وہ اپنی آنکھ کے ہر خواب سے گزارے مجھے
میں پانیوں کی تہوں میں تمام ہو رہا ہوں
سمندروں نے دکھائے نہیں کنارے مجھے
نظر کے سارے مناظر اُلٹ کے دیکھتا ہوں
کسی طرح تو بسر کر سکیں نظارے مجھے
مگر ہوا نے مری راہ روک رکھی تھی
چراغ طاق سے کرتے رہے اشارے مجھے
عدنان منور
No comments:
Post a Comment