صفحات

Saturday, 25 April 2026

بوجھ ہستی کا ہمیں ڈھونے دیا جاتا ہے

 بوجھ ہستی کا ہمیں ڈھونے دیا جاتا ہے

بے سبب ہونا اگر ہونے دیا جاتا ہے

راستے بچھتے چلے جاتے ہیں رہرو کے لیے

سونے والوں کو بہت سونے دیا جاتا ہے

میری وحشت کی ہے توقیر بہت بستی میں

دربدر خاک بسر ہونے دیا جاتا ہے

ہنسنے والوں کو بھی دو چار گھڑی ہنسنے دیں

رونے والوں کو اگر رونے دیا جاتا ہے

کیوں یہ لازم ہے کہ آلودہ نہ ہو بارِ دِگر

دامن اِک بار اگر دھونے دیا جاتا ہے

کچھ چُھپا رکھا ہے اِس دل کے نہاں خانے میں

دُرِشہوار کبھی کھونے دیا جاتا ہے


واحد سراج

No comments:

Post a Comment