چراغ جلنے کو پانی میں کون رکھتا ہے
تضاد اپنی کہانی میں کون رکھتا ہے
جو تجھ کو ٹُوٹ کے چاہا تو ہم نہیں بھٹکے
یہ ضبطِ نفس جوانی میں کون رکھتا ہے
ہوا تو چلتی ہے آنچل تِرا اُڑانے کو
یہ پانیوں کو روانی میں کون رکھتا ہے
صلیب پر بھی تجھی کو پکارتا ہوں میں
یہ حوصلہ دلِ فانی میں کون رکھتا ہے
عدیل لفظ ہیں جس کے اسے خبر ہو گی
بصیرتوں کو معانی میں کون رکھتا ہے
اشرف عدیل
No comments:
Post a Comment