صفحات

Saturday, 25 April 2026

چراغ جلنے کو پانی میں کون رکھتا ہے

 چراغ جلنے کو پانی میں کون رکھتا ہے

تضاد اپنی کہانی میں کون رکھتا ہے

جو تجھ کو ٹُوٹ کے چاہا تو ہم نہیں بھٹکے

یہ ضبطِ نفس جوانی میں کون رکھتا ہے

ہوا تو چلتی ہے آنچل تِرا اُڑانے کو

یہ پانیوں کو روانی میں کون رکھتا ہے

صلیب پر بھی تجھی کو پکارتا ہوں میں

یہ حوصلہ دلِ فانی میں کون رکھتا ہے

عدیل لفظ ہیں جس کے اسے خبر ہو گی

بصیرتوں کو معانی میں کون رکھتا ہے


اشرف عدیل

No comments:

Post a Comment